22 ستمبر 2011 - 20:30

پاکستان میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے بانی امیر ملک محمد اسحاق کو ان کے آبائی شہر رحیم یار خان میں نظر بند کردیا گیا ہے تاہم ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

ابنا: جنوبی پنجاب کے علاقے رحیم یار خان کے ضلعی حکام کے مطابق ان کی نظر بندی کی معیاد دس روز ہے۔
حکام کے مطابق ضلعی رابطہ آفیسر کی ہدایت پر ملک اسحاق کو ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کیا گیا اور ان کےگھر کے باہر پولیس کے اہلکاروں کو مامور کیا گیا ہے۔
ملک محمد اسحاق دو ماہ قبل جولائی میں ضمانت منظور ہونے پر چودہ برس کی قید کے بعد رہا ہوئے تھے۔ ان پر سو سے زیادہ افراد کے قتل کے الزامات ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق سے بات کرتے ہوئے رحیم یار خان کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر امجد بشیر نے بتایا کہ ملک اسحاق کو ڈی پی او رحیم یار خان کی رپورٹ پر بائیس ستمبر کو نظر بند کیا گیا ہے۔
ملک اسحاق کی نظر بندی بلوچستان کے علاقے مستونگ میں شیعہ زائرین کی بس پرفائرنگ کے واقعہ کے دو روز بعد عمل میں آئی ہے۔
ملک اسحاق کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پر گزشتہ ہفتے ایک قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس کے بعد لشکر جھنگوی کے سابق امیر کو پولیس نے ایک طرح کی حفاظتی تحویل میں لے رکھا ہے۔
تاہم ضلع رحیم یار خان کے ایک پولیس آفیسر کے مطابق ملک اسحاق پر حملہ ہونے کا خطرہ تھا اور ضلع مظفر گڑھ کی انتظامیہ نے نقص امن کے پیش نظر ان کے ضلع میں داخل ہونے پر پابندی لگادی تھی۔
پولیس آفیسر کے مطابق انیس ستمبر کو ملک اسحاق کو مظفر گڑھ جانا تھا اور مظفر گڑھ کی سرحد پر  استقبال کے لیے اکٹھے ہونے والے افراد پر حملہ بھی ہوا جس کے نیتجے میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
ضلعی حکام نے بتایا کہ ملک اسحاق کونقص امن کے قانون پانچ ایم پی او کے تحت نظر بندکیا گیا ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق نظر بندی میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔

/110